شمالی کوریا کے نئے جوہری جنگی بحری جہاز کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ

شمالی کوریا(بولونیوز)جنگی بحری جہاز کی رونمائی کے بعد جزیرہ نما کوریا اور مشرقی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ امریکا کے امریکی ساتواں بحری بیڑا اور جنوبی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے گرد سمندری نگرانی کو انتہائی ہائی الرٹ پر کر دیا ہے۔

یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے اپنے نئے 5,000 ٹن وزنی جنگی بحری جہاز چوئے ہیون کی رونمائی کے بعد کیا گیا۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ یہ جدید ڈسٹرائر ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شمالی کوریا نے اس کے ساتھ ساتھ مزید بڑے 10,000 ٹن وزنی کروزر کلاس جنگی جہاز تیار کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اضافی سمندری گشتی طیارے، جدید ریڈار سسٹمز اور جاسوسی اثاثے تعینات کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا جلد ہی اپنے نئے جنگی بحری جہاز کے سمندری تجربات (سی ٹرائلز) شروع کر سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا، امریکا اور جنوبی کوریا کے بحری جہازوں کے درمیان کسی بھی غیر ارادی آمنے سامنے کی صورتحال خطے میں شدید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی اور جنوبی کوریائی حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تاحال کسی فوجی تصادم کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتے نہایت حساس ہو سکتے ہیں۔ اگر شمالی کوریا اپنے نئے جنگی جہاز کو فعال سروس میں شامل کرتا ہے تو مشرقی ایشیا میں بحری کشیدگی اور اسلحے کی دوڑ میں مزید تیزی آنے کا خدشہ ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *