ایران جنگ کے بعد امریکا کا بڑا فیصلہ، THAAD میزائلوں کی پیداوار میں 444 فیصد اضافے کا اعلان

واشنگٹن(بولونیوز)امریکا نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران اپنے فضائی دفاعی ذخائر میں نمایاں کمی کے بعد THAAD نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار میں غیر معمولی اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امریکی Missile Defense Agency نے دفاعی کمپنی Lockheed Martin کو 35 ارب ڈالر تک مالیت کا سات سالہ معاہدہ دیا ہے۔ معاہدے کے تحت THAAD انٹرسیپٹر میزائلوں کی سالانہ پیداوار موجودہ سطح سے بڑھا کر تقریباً 400 میزائل کر دی جائے گی، جبکہ اس وقت سالانہ پیداوار تقریباً 96 میزائل ہے۔ یوں پیداوار میں مجموعی طور پر 444 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور جنگ کے دوران امریکی فوج نے بڑی تعداد میں THAAD انٹرسیپٹرز استعمال کیے، جس کے باعث ذخائر تیزی سے کم ہو گئے۔ صرف 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے 150 سے زائد THAAD میزائل داغے، جبکہ ہر ایک انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ 2026 کی 39 روزہ جنگ کے دوران صرف THAAD نظام پر ہی تقریباً 3.5 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ میزائلوں کی قلت کے باعث امریکا کو جنوبی کوریا سے بھی THAAD سسٹمز مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے معاہدے کا مقصد نہ صرف جنگ کے دوران ختم ہونے والے ذخائر کو دوبارہ بھرنا ہے بلکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے دوران امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل دفاعی صلاحیت فراہم کرنا بھی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ THAAD میزائلوں کی تعداد میں اضافہ امریکی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا، تاہم ایران کے جدید Fattah اور Fattah-2 ہائپرسونک میزائل اب بھی امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *