تہران(بولونیوز)ایران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران مخالف کرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ یہ مطالبہ تہران میں تعینات عراقی سفیر کے ذریعے باضابطہ طور پر عراقی حکومت تک پہنچایا گیا ہے۔
نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق یہ پیغام تہران میں عراق کے سفیر یاسر الحجاج کے ذریعے دیا گیا، جس کی ایک نقل بغداد اور دوسری عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن کی حکومت کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے عراقی حکومت اور کردستان کی مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ایران مخالف کرد گروہوں کے رہنماؤں اور ارکان کو ایران کے حوالے کیا جائے، یا پھر انہیں ایک مقررہ مدت کے اندر کسی تیسرے ملک منتقل کر دیا جائے۔
تاحال عراقی حکومت، کردستان کی مقامی حکومت اور ایران مخالف کرد گروہوں کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ایران اور عراق نے تین سال سے زائد عرصہ قبل سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مارچ 2023 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت عراق نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین، بالخصوص کردستان ریجن، کو مسلح گروہوں کی جانب سے ایران کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے کے بعد کردستان کی مقامی حکومت نے ایران مخالف بعض کرد جماعتوں کو غیر مسلح کیمپوں میں منتقل بھی کیا تھا۔
دوسری جانب گزشتہ روز ایران کے شہر بانہ کے نواحی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاسدارانِ انقلاب سے قریبی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق جھڑپوں کا ایک اہم مرکز سقز–بانہ شاہراہ پر واقع بانہ شہر کی داخلی چیک پوسٹ تھی، تاہم تاحال کسی بھی کرد جماعت نے ان واقعات پر تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر حزب حیات آزاد کردستان کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے خودکش ڈرون کے ذریعے بانہ کے نواحی گاؤں شیوی کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو ان کا جواب دیا جائے گا۔
Leave a Reply