سٹی کورٹ کے احاطے سے جنسی زیادتی کا مرکزی ملزم فرار
کراچی(بولونیوز)سٹی کورٹ میں ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا، جہاں جنسی زیادتی کے مقدمے کا مرکزی ملزم جج کا فیصلہ سنتے ہی کمرۂ عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ایڈوکیٹ فاران افریدی کے مطابق کیس کے ناقص تفتیشی افسر (آئی او) اسد اشفاق کی عدم موجودگی کے باعث ملزم کو فرار ہونے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر مظلوم کو انصاف دلانے کے بجائے ملزم کو بچانے میں سرگرم رہا اور کمسن لڑکی سے زیادتی کے ملزم کو مبینہ سرپرستی حاصل تھی۔
ایڈوکیٹ فاران افریدی نے مزید الزام عائد کیا کہ تفتیشی افسر پر مبینہ رشوت وصولی اور ملی بھگت کے سنگین الزامات ہیں۔ ان کے مطابق “پیسوں کے عوض ملزم کو ہر طرح سے بچانے کی کوشش کی گئی، اور مبینہ طور پر ملی بھگت کے تحت عدالت سے فرار کروایا گیا۔ تین پیشیوں کے دوران ایک بار بھی تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ پولیس کے نام پر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟”
متاثرہ بچی کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامی ملک میں خواتین کی عزت پامال کرنے والے ملزمان کو اسد اشفاق جیسے مبینہ راشی افسران تحفظ دیتے رہے تو کسی بھی بیٹی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ریپسٹ کی سرپرستی کرنے والے تفتیشی افسر اسد اشفاق کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے اور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔


