بلدیہ فیکٹری سانحہ کیس: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری، دو ملزمان بری
اسلام آباد(بولونیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلدیہ فیکٹری سانحہ کیس میں تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے 264 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے دونوں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ڈھائی سال بعد سامنے آنے والی نئی کہانی قابلِ اعتماد نہیں۔ فیصلے کے مطابق تاخیر سے سامنے آنے والے بیانات پر انحصار ممکن نہیں، اور عدالتی اعترافِ جرم آزاد شواہد سے ثابت نہ ہو سکا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ فرانزک شواہد سے کیمیکل کے استعمال کا دعویٰ بھی ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ 34 زخمی گواہوں میں سے کسی ایک نے بھی ملزمان کے خلاف بیان نہیں دیا۔ عدالت کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کیے جانے سے استغاثہ کا مقدمہ مزید کمزور ہو گیا، اور محض قیاس آرائیوں یا عمومی الزامات کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے، لہٰذا محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف عدالتی ریمارکس حذف کیے جائیں، جبکہ سندھ ہائیکورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔


