مودی نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کو چھوٹی بہن قرار دے دیا
انڈیا(بولونیوز)بھارت اور جاپان نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہوئے مصنوعی ذہانت، دفاع، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی سلامتی اور مضبوط سپلائی چینز سمیت مختلف شعبوں میں 10 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے 120 معاہدوں اور سرمایہ کاری منصوبوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ اہم پیش رفت 16ویں بھارت۔جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں اپنی “چھوٹی بہن” قرار دیا۔ مودی کے اس غیر معمولی جملے کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی تین روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بھی جذباتی انداز میں جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کو اپنا “بڑا بھائی” قرار دیا اور کہا کہ وہ اب وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اپنا بڑا بھائی تصور کرتی ہیں۔
اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں نے شنزو آبے کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اس وژن کو سراہا جس کے تحت بھارت اور جاپان کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے۔
بھارت اور جاپان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، صاف توانائی، معدنی وسائل، دفاعی تعاون، اقتصادی سلامتی، سمندری رابطوں اور انڈو پیسفک خطے میں مشترکہ حکمت عملی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بھارت اور جاپان ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 10 ارب ڈالرز سے زائد کے یہ معاہدے نہ صرف دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے بلکہ ایشیا میں ایک نئے جیو اکنامک اور اسٹریٹجک توازن کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اور سانائے تاکائیچی کے درمیان قائم ہونے والی ذاتی ہم آہنگی مستقبل میں بھارت اور جاپان کے تعلقات کو مزید گہرائی اور استحکام فراہم کرے گی۔


