لبنان میں امن کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ناگزیر قرار

یروشلم(بولونیوز)اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں ’’امن اور سلامتی‘‘ کے قیام کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ایک لازمی شرط ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں جنوبی سوڈان کے وزیر خارجہ جیمز پٹیا مورگن سے یروشلم میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایک ’’مرحلہ وار عمل‘‘ شامل ہے، جس کے تحت لبنانی فوج کو ملک بھر میں مؤثر ریاستی اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم اس عمل کی تکمیل کے لیے غیر ریاستی مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر حزب اللہ مراد ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اس فریم ورک معاہدے کو ’’بے اثر اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ہفتے کے روز بیان دیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان میں طویل قیام کی تیاری کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *