انگلستان سے ملنے والی رقوم اور غیر قانونی امیگریشن پر سیاسی حلقوں میں شدید تشویش
اسلام آباد(بولونیوز)سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ انگلستان کی جانب سے پاکستان کو غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اربوں روپے دیے جا رہے ہیں، تاہم ان رقوم کے شفاف استعمال اور مؤثر نتائج پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تنقیدی آراء کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ رقوم حکومتی سطح پر مؤثر پالیسی سازی کے بجائے بدانتظامی کی نذر ہو سکتی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے انگلستان سے یہ مطالبہ مؤثر انداز میں نہیں کیا جا رہا کہ لندن میں موجود اُن عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جن پر پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایک طرف پاکستان سے غیر قانونی مزدوری اور لیبر کی ترسیل روکنے پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک بعض متنازع عناصر کو پناہ ملتی ہے، جو دوہرے معیار کے سوال کو جنم دیتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کو شفاف مؤقف اختیار کرنے، پارلیمانی نگرانی مضبوط بنانے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی معاہدوں اور فنڈز کے استعمال پر شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔ حکومتی سطح پر اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔


