داعش حملہ آورکوقابوکرکےیہودیوں کوبچانےوالے مسلمان احمد الاحمد پروالد پرتشدد،29 جون کو عدالت میں پیشی

سڈنی(بولونیوز) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں دسمبر کے دوران یہودی اجتماع پر اسلا-مک سٹیٹ (داعش) کے حملے کے دوران حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش کر کے زخمی ہونے والے مسلمان شہری احمد الاحمد کے خلاف اب اپنے والد پر تشدد اور مبینہ طور پر گھر میں قید رکھنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق احمد الاحمد پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی لین دین کے تنازع پر اپنے والد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دیگر جرائم کا بھی ارتکاب کیا۔ اس حوالے سے سڈنی پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ احمد الاحمد کو 29 جون کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر میں سڈنی میں ہونے والے یہودی اجتماع پر خونریز حملے کے دوران احمد الاحمد نے حملہ آور باپ بیٹے ساجد اکرم اور نوید اکرم میں سے ایک کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی، جس دوران وہ خود بھی زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد انہیں انسانیت کا ہیرو قرار دیا گیا اور ان کے لیے کئی ملین ڈالر کی امدادی رقم بھی جمع کی گئی تھی۔

تاہم اب وہ اسی پولیس کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جس نے ماضی میں ان کی بہادری کو سراہا تھا۔ دوسری جانب احمد الاحمد نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمات بے بنیاد ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی ان کی جمع شدہ رقم ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت انہیں جھوٹے الزامات میں پھنسایا جا رہا ہے۔

احمد الاحمد کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف ثابت کریں گے، جبکہ حکام کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات قانون کے مطابق کی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *