وفاقی حکومت کا سول سرونٹس کے لیے فارن نیشنلٹی ڈسکلوزر رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(بولونیوز)وفاقی حکومت پاکستان نے سول سرونٹس کے لیے “سول سرونٹس ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی رولز 2026” نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت سرکاری ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سول سرونٹس کو تقرری کے وقت اپنی غیر ملکی شہریت یا فارن ٹریول ڈاکومنٹس کی مکمل تفصیلات جمع کرانا ہوں گی، جبکہ ہر سال اس حوالے سے سالانہ ڈکلیئریشن جمع کروانا بھی لازمی ہوگا۔

مزید کہا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویزات سے متعلق غلط معلومات دینے یا ڈکلیئریشن جمع نہ کروانے کی صورت میں تقرری کالعدم قرار دی جا سکتی ہے اور ملازمت ختم بھی کی جا سکے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام سول سرونٹس کو 90 روز کے اندر تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رولز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے یا فارن ٹریول ڈاکومنٹ لینے کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا، جبکہ سول سرونٹ یا اس کے زیر کفالت افراد بغیر اجازت کسی بھی غیر ملکی شہریت کے حامل نہیں ہو سکیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فارن نیشنل سے شادی کی تفصیلات بھی سالانہ ڈکلیئریشن میں شامل کرنا لازمی قرار دی گئی ہیں، تاہم پیدائشی یا نسلی بنیاد پر دوسری شہریت رکھنے والوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ رولز کی خلاف ورزی کو سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت بدانتظامی تصور کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو روکنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *