چین کے گرد عالمی طاقتوں کا گھیرا، ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقاتوں کے پیچھے کیا راز ہے
واشنگٹن(بولونیوز)اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک بڑے اور اہم تغیر سے گزر رہی ہے، جہاں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قائم رہنے والا امریکی بالادستی پر مبنی یک قطبی نظام اب بتدریج کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین معاشی، سفارتی اور عسکری میدان میں ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، جبکہ روس مغربی دباؤ کے مقابل ایک مزاحم قوت کے طور پر اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات اور اس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا چین جا کر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
سفارتی ماہرین ان پیش رفتوں کو محض روایتی ملاقاتیں نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں کثیر قطبی نظام (Multipolar World Order) تیزی سے ابھر رہا ہے اور طاقت کے نئے مراکز عالمی منظرنامے کو ازسرنو تشکیل دے رہے ہیں۔


