اے ٹی ایم صارفین کے لیے بڑی خبر، کارڈ پھنسنے اور سروس چارجز کی کٹوتی پر بینک پر جرمانہ
کراچی(بولونیوز)کراچی کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے اے ٹی ایم کی خرابی اور صارف کو ذہنی اذیت پہنچانے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بینک الحبیب پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت کے مطابق اے ٹی ایم کی خرابی کے باعث صارف کا کارڈ ضبط ہو جانا اور اس کے باوجود سروس چارجز کی کٹوتی ہونا سروس میں کمی کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست گزار فراز فہیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 2019 میں رقم نکالنے کی کوشش کے دوران اے ٹی ایم نے نہ رقم جاری کی اور نہ ہی کارڈ واپس کیا، جس کے نتیجے میں انہیں شرمندگی، ذہنی اذیت اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بعد ازاں نکلوائی گئی رقم اور سروس چارجز صارف کو واپس کر دیے گئے تھے، تاہم اس سے ذہنی اذیت، پیشہ ورانہ خلل اور وقت کے ضیاع کی تلافی نہیں ہوتی۔ لہٰذا عدالت نے بینک کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کو 15 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔
دوسری جانب بینک کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کی شکایت بینکاری قوانین اور پیمنٹ سسٹمز اینڈ الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے تحت آتی ہے اور کنزیومر کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے صارف کے حق میں فیصلہ سنایا۔


