غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا نسل کشی کا حصہ ہے
جنیوا(بولونیوز)اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا نسل کشی کا حصہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا کر قتل کر رہی ہیں، جو کہ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات و اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے غزہ میں اب تک جاں بحق ہونے والے افراد میں تقریباً 30 فیصد تعداد معصوم بچوں کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز اور زچگی کے اسپتالوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، جس سے فلسطینیوں کی اگلی نسل کا مستقبل اور نوزائیدہ بچوں کی بقا شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین میں اسقاطِ حمل اور بچوں میں پیدائشی نقائص کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ امداد پر لگائی گئی اسرائیلی پابندیوں کے باعث بچے بھوک اور ویکسین کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
کمیشن کے سربراہ سری نواسن مرلیدھرن نے بتایا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل بچوں کو قتل اور شدید زخمی کر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے بچوں کے تحفظ کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنگ کے آغاز سے 50 ہزار سے زائد فلسطینی بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ اکتوبر میں نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک اوسطاً روزانہ ایک بچہ شہید ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ قتل اور زخمی کرنے کے علاوہ فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں شدید تشدد، بدسلوکی اور جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
سابقہ اسیر بچوں نے بتایا کہ انہیں برہنہ کر کے ان کی ویڈیوز بنائی گئیں اور ان کا مذاق اڑایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک اسرائیلی جیلوں میں قید آدھے سے زیادہ فلسطینی بچوں پر کوئی چارج شیٹ یا مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی کمیشن نے ان اسرائیلی فوجی یونٹس کی نشاندہی بھی کر لی ہے جو بچوں پر حملوں میں ملوث ہیں اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تشدد بند کرے۔ کمیشن کے سربراہ نے خبردار کیا کہ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل اصل میں فلسطینی قوم کے وجود اور ان کے مستقبل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب جنیوا میں اسرائیلی مشن نے اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے “مایوس کن اور جھوٹا پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔


