بلدیاتی اداروں میں مبینہ کرپشن اور جعلی بھرتیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاریاں
کراچی(بولونیوز)شہر میں بلدیہ کراچی اور مختلف ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں مبینہ کرپشن، جعلی بھرتیوں اور پے رول فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن ادارے بھی متحرک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کورنگی ٹاؤن میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی جعلی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں شجاعت حسین اور اس کے ساتھی آصف ککو سمیت دیگر افراد کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جو مبینہ طور پر جعلی دستخطوں اور پے رول میں جعلی اندراجات کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مبینہ بھرتیوں میں گریڈ 2 سے 17 تک کے افراد شامل ہیں، جن کی جعلی سروس بکس مختلف ٹاؤنز اور یونین کونسلز سے تیار کی گئیں، جبکہ بعض کیسز میں بھاری رشوت کے عوض 2012 کی تاریخوں میں بھرتیاں ظاہر کی گئیں۔تحقیقاتی ادارے بینک اسٹیٹمنٹس، تنخواہوں کے ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر خفیہ انکوائری کر رہے ہیں، جبکہ بعض ملازمین کی پہلی تنخواہیں حالیہ برسوں میں ظاہر ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں بشمول مومن آباد، اورنگی ٹاؤن، کیماڑی، لیاری، ملیر اور بن قاسم میں بھی مبینہ جعلی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی جانچ کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی متوقع ہے، جبکہ مبینہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد تک پہنچنے کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔


