کراچی میں نابالغ لڑکیوں کی پراسرار گمشدگیاں، ایک اور افسوسناک واقعہ
کراچی(بولونیوز)شہرِ قائد کراچی سے نابالغ لڑکیوں کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ واقعات پر واقعات رپورٹ ہونے کے باوجود متعدد بچیوں کا آج تک سراغ نہیں مل سکا، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
تازہ واقعے میں تصویر میں نظر آنے والی 16 سالہ راشدہ دختر نواز علی پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ راشدہ کے والد نواز علی ایک نجی اسکول میں بطور سیکیورٹی گارڈ ملازمت کرتے ہیں۔ غربت اور گھریلو حالات کے دباؤ کے باعث انہوں نے اپنی بیٹی کو معظم پرویز راجہ نامی شخص کے گھر بطور ملازمہ رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ملازمت چند گھنٹوں کی نہیں بلکہ 24 گھنٹے کی تھی، جس میں راشدہ اپنے مالکان کے احکامات کی تعمیل میں مصروف رہتی تھی۔
راشدہ کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی اہلِ خانہ پر یہ خبر بم کی طرح گری۔ ابتدا میں انہوں نے قریبی رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ہاں تلاش اور معلومات حاصل کیں، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بعد ازاں معاملہ پولیس کے سامنے رکھا گیا اور تھانہ عزیز آباد میں رپورٹ درج کرائی گئی۔
پولیس نے فوری طور پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365/B کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور نثار محمد خان کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ راشدہ کی بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہری حلقوں نے بھی نابالغ بچیوں کی بڑھتی ہوئی گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری توجہ اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔


