امریکی انٹیلیجنس: ایران کی حکومت فوری طور پر گرنے کا خطرہ نہیں
واشنگٹن(بولونیوز)امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی حکومتی قیادت مضبوط ہے اور فوری طور پر حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں نظر آتا۔
متعدد انٹیلیجنس رپورٹس میں یکساں تجزیہ سامنے آیا ہے کہ ایرانی نظام اب بھی قائم ہے اور حکومت عوام پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً دو ہفتوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی سیاسی قیادت کا ڈھانچہ برقرار ہے۔
جنگ کے پہلے دن، یعنی 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر کی مبینہ شہادت کے باوجود ایرانی مذہبی قیادت میں اتحاد قائم رہا اور ایرانی علماء کی اعلیٰ کونسل نے مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران میں فضائی دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا، جس میں پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈر بھی مارے گئے، تاہم آئی آر جی سی اور عبوری قیادت اب بھی ملک کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور سیاسی دباؤ کے باعث اشارہ دیا کہ امریکا جلد اپنی بڑی فوجی کارروائی ختم کر سکتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ایران کی سخت گیر قیادت برقرار رہنے کی صورت میں جنگ کا قابلِ قبول خاتمہ تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ طور پر زمینی فوجی کارروائی اور اندرونی عوامی احتجاج درکار ہو گا، جبکہ امریکی انتظامیہ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
مزید برآں، امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایرانی کرد گروپس فی الحال ایرانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف مؤثر جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔


