عمران خان کو اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات سے محروم کرنے کا سلسلہ غیر قانونی،

کراچی(بولونیوز)سینئر وکیل اور حسین علی چوہان نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اہل خانہ اور قانونی وکلاء سے ملاقات سے محروم رکھنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔

وکیل حسیـن علی چوہان نے کہا کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات سے روکنا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم پر بنائے گئے ملاقات کے مواقع میں رکاوٹ ڈالنا “Contempt of Court” کے زمرے میں آتا ہے اور یہ عدالتی انصاف کی سنگین پامالی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو جان بوجھ کر الگ تھلگ کر کے شدید نفسیاتی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، اور یہ سیاسی انتقامی کارروائی اور غیر انسانی سلوک کی واضح مثال ہے۔ وکیل نے کہا، “ہر قیدی کو آئینی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور قانونی مشیروں سے ملاقات کرے، اس حق کو کسی بھی حالت میں روکنا ناقابل قبول ہے۔”

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر عمران خان کو اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قانونی امور اور صحت سے متعلق مشاورت کر سکیں۔ وکیل نے خبردار کیا کہ اگر یہ غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو اس کے سنگین نتائج اور عوامی احتجاج کا خدشہ ہے۔

حسین علی چوہان نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی اور عدالت کے احکامات کی مکمل پاسداری حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، اور اس میں کسی قسم کی غفلت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *