مسلم لیگ ن سندھ میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم
کراچی(بولونیوز)مسلم لیگ (ن) سندھ کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور پارٹی مبینہ طور پر دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگ سندھ کے اختلافات اب ایوانوں سے نکل کر سوشل میڈیا تک پہنچ چکے ہیں، جہاں رہنما اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ایک دوسرے پر کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں۔
پارٹی میں “ورکرز کو عزت دو” تحریک نے بھی زور پکڑ لیا ہے، جبکہ مختلف گروپس ایک دوسرے کے خلاف سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ ایک دھڑا صوبائی صدر بشیر میمن کے ساتھ جبکہ دوسرا گروپ وفاقی وزراء کے گرد منظم بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ مملکت کھیئل داس کوہستانی، شاہ محمد شاہ اور راجہ انصاری کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ سکھر میں تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر جلسے کے اعلان نے مزید اختلافات کو جنم دیا ہے، جبکہ چند روز قبل فہد شفیق کو شوکاز نوٹس اور عہدے سے ہٹانے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
پارٹی ورکرز کی جانب سے قیادت پر عدم اعتماد اور ناراضگی کے اظہار کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر الزامات کی بھرمار جاری ہے۔
اس حوالے سے راجہ انصاری نے کہا ہے کہ جتنی مخالفت ہوگی، اتنا ہی آگے بڑھیں گے اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سندھ میں بڑھتے ہوئے ان اختلافات کا نوٹس لیتی ہے یا نہیں۔


