روہڑی ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن: ایشیائی ترقیاتی بینک سے دو ارب ڈالر کے معاہدے کے قریب
کراچی(بولونیوز)پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک 480 کلومیٹر طویل کراچی–روہڑی ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے Asian Development Bank کے ساتھ دو ارب ڈالر کے مالی پیکج پر معاہدے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ سیکشن سات ارب ڈالر کے ML-1 منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے، جسے پاکستان طویل عرصے سے China–Pakistan Economic Corridor (سی پیک) کے تحت مکمل کرنے کا خواہاں تھا۔
حکام کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے برسوں سے رُکی ہوئی ریلوے انفراسٹرکچر کی جدید کاری کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ منصوبے کے تحت نئی پٹریاں بچھائی جائیں گی، سگنلنگ سسٹم جدید بنایا جائے گا اور پرانے پل تبدیل کیے جائیں گے، جس سے ٹرینوں کی رفتار دوگنا، حادثات کے خدشات میں نمایاں کمی اور Karachi سے Rohri کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے کم ہو جائے گا۔ اس سے مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کے نظام کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
منصوبے کے مالیاتی بندوبست میں Ministry of Finance Pakistan، Pakistan Railways اور National Logistics Cell شامل ہیں، جبکہ قرض کی شرائط طے کرنے کے لیے ایک خصوصی ریلوے فنانسنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فنڈز کا پہلا حصہ جولائی 2026 میں دستیاب ہو جائے گا، جب کہ تعمیراتی کام کی مدت ڈھائی سے تین سال رکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ML-1 کی اپ گریڈیشن سے پاکستان کو کم لاگت مال برداری، تیز تر برآمدی راستے اور علاقائی تجارت میں وسعت جیسی اہم معاشی رعایتیں حاصل ہوں گی۔ یہ ریلوے پٹری مستقبل میں سری لنکا سے ایران اور ترکی تک مجوزہ ریل نیٹ ورک کی بنیاد بن سکتی ہے، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو یوریشیا تک رسائی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
مقامی سطح پر اس منصوبے سے ہزاروں انجینئرز، ٹیکنیشنز اور ٹھیکے داروں کو روزگار ملنے کی توقع ہے، جب کہ اسٹیل، سیمنٹ اور برقی آلات کی بڑھتی ہوئی طلب سے مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔ جدید الیکٹرانک سگنلنگ اور ڈیزل-الیکٹرک انجن ایندھن کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی کا باعث بنیں گے، جو عالمی ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلوے کی بحالی نہ صرف ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرے گی، جس سے آئندہ مراحل میں نجی شعبے کی شمولیت، ایکویٹی سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات روشن ہوں گے۔


