ڈسٹرکٹ سینٹرل غیر قانونی تعمیرات کا گڑھ بن گیا
کراچی(بولونیوز)ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیرقانونی تعمیرات کاسلسلہ تھم نہ سکا۔ ناظم آباد کے علاقے گولیمار چورنگی کے قریب رضویہ سوسائٹی میں واقع پلاٹ نمبر C-4 پر عدالتی ڈیمولیشن کے باوجود ایک بار پھر غیر قانونی تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر غیر قانونی بیسمنٹ، گراؤنڈ پلس تھری اور میز نائن فلور کے ساتھ متعدد دکانیں اور رہائشی پورشنز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی کارروائی کے دوران کاسمیٹک ڈیمولیشن دکھا کر عدالت سے اسٹے آرڈر حاصل کیا گیا، جس کے بعد دوبارہ مکمل رفتار سے تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے بعض افسران کی جانب سے بلڈر کو مبینہ طور پر گرین سگنل دیا گیا، جس کے نتیجے میں ڈی جی ایس بی سی اے کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ناظم آباد ٹاؤن اور لیاقت آباد ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی ایک معمول بن چکی ہے، جہاں ایس بی سی اے کے بعض افسران بلڈرز مافیا کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ایک جانب اعلیٰ حکام غیر قانونی تعمیرات اور ملوث افسران کے خلاف انکوائری کے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں، تو دوسری جانب زمینی سطح پر انہی افسران کی جانب سے خلاف ورزیوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔
شہری حلقوں نے صورتحال کو “ایک ادارہ، دو نظام” سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر C-4 سمیت ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جاری تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے، اور ملوث افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کا سدباب ممکن ہو سکے۔


