سندھ حکومت نے بلدیہ عظمی کراچی کو یکسر نظر انداز کردیا
کراچی(بولونیوز)سندھ حکومت نےبلدیہ عظمی کراچی کو یکسر نظر انداز کردیا،ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود کے ایم سی میں مستقل میونسپل کمشنرکی تعیناتی نہ کی جاسکی،میٹروپولیٹن کارپوریشن بیساکھیوں پر آگئی، بلدیہ عظمی کراچی کو عارضی چارج پر چلائے جانے کے باعث کے ایم سی کے امور بری طرح متاثر،محکمے بے لگام،محکمہ فنانس،محکمہ انجینئرنگ،محکمہ لینڈ سمیت دیگر محکموں میں من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں،پورے ادارے کا بوجھ میئر کراچی کے کاندھوں پر آگیا۔تفصیلات کے مطابق ملک کا سب سے بڑا بلدیاتی ادارہ بلدیہ عظمی کراچی گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے مستقل میونسپل کمشنر سے محروم ہے،کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نےبلدیہ عظمی کراچی کویکسرنظراندازکردیا ہے جس کے باعث ادارے میں مستقل میونسپل کمشنر کی تعیناتی کے بجائے ایک خاتون افسر کو عارضی چارج دیکر ادارے کے امور چلائے جارہے ہیں،یاد رہے کہ 22 جنوری2026ء کو چیف سیکریٹری سندھ نے کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کے ایم سی میں تعینات خاتون افسر سمیرا حسین کو میونسپل کمشنر کا عارضی چارج دینے کاحکم نامہ جاری کردیا تھا،تاہم ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجودسندھ حکومت بلدیہ عظمی کراچی میں مستقل میونسپل کمشنر کی تعیناتی کرنے میں ناکام ہے،کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی چارج رکھنے والی خاتون افسر سمیرا حسین کو کے ایم سی حکام نے سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ کے عہدے پر بھی تعینات کررکھا ہے،سندھ حکومت اور کے ایم سی حکام کی جانب سے خاتون افسر پر بھاری ذمہ داریاں عائد کئے جانے کے باعث مذکورہ افسر بمشکل ادارے کے امور چلانے پر مجبور ہیں،جبکہ دوسری طرف مستقل میونسپل کمشنرکی عدم تعیناتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کے ایم کے محکمے بے لگام ہوچکے ہیں اور افسران کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ بوجھ میئر کراچی مرتضی وہاب کے کاندھوں پر آپڑا ہے جو کہ دفتری امور کے ساتھ ساتھ شہر کے دورے کرکے ادارے کی کارکردگی بہتر کرنے کی کوششوں میں دن رات مصروف ہیں تاہم ٹیم نہ ہونے کے باعث بہتر نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں،کے ایم سی کے افسران نے سندھ حکومت سے میونسپل کمشنر کے عہدے پر کسی قابل اور دبنگ افسر کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہر اور ادارے کے امور بہتر کئے جاسکیں۔


