کے پی میں دہشت گردی اور سرحدی صورتحال کےباعث گورنرراج پرغورکیا جارہا ہے

اسلام آباد(بولونیوز)وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی تازہ لہر اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ انتظامی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے میں ایسا مؤثر انتظامی ڈھانچہ ہو جو عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف دے۔
انہوں نے کہا کہ “کب تک صوبے کے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑا جائے؟” حالات اس وقت نازک ہیں اور اسی لیے گورنر راج کے نفاذ کا آپشن زیر غور ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ گورنر راج صرف شدید ضرورت کے تحت نافذ کیا جاتا ہے اور خیبرپختونخوا کے حالات اس کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کے امکانات پر بھی غور جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے گورنر کے لیے 5 نام زیر غور ہیں جن میں 3 سیاسی شخصیات اور 2 سابق فوجی افسران شامل ہیں۔

زیرِ غور سیاسی ناموں میں شامل ہیں:

امیر حیدر خان ہوتی

آفتاب شیرپاؤ

پرویز خٹک

جبکہ سابق فوجی افسران میں شامل ہیں:

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی (سابق کور کمانڈر پشاور)

لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود (سابق آئی جی ایف سی)

ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *