آج بھی ہمارے معاشرے میں ہم خواتین کو مساوی حقوق دینے میں ناکام ہیں
کراچی(بولونیوز)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تناظر میں یہ مباحثہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ہم خواتین کو مساوی حقوق دینے میں ناکام ہیں۔ ہم خواتین کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں اور خاص طور پر“ورک پلیس پروٹیکشن”کے حوالے سے ہماری کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہراسانی سے متعلق قانون سازی موجود ہے، خواتین محتسب کا ادارہ بھی فعال ہے جو خواتین کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے ہم خواتین کو تحفظ دینے میں حتیٰ کہ ہراسانی کے مقدمات درج کرانے میں بھی ناکام ہیں۔ اور اگر کوئی کیس رپورٹ بھی ہو جائے تو قانون اب تک خدا جانے کتنے لوگوں کو مکمل تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی،اوڈبیلوایس ڈی پاکستان نیشنل چیپٹراور پاکستان اکیڈمی آف سائنسزکے اشتراک سے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینٹیک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ پروگرام بعنوان: ”سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، فنون اور مینجمنٹ میں خواتین کا بااختیار ہونا۔قوت اور خود آگاہی کے ساتھ زندگی کی راہنمائی“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہمیں ہر فرد کو زیادہ آزادی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے اور اداروں میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے یہ ذمہ داری اس لیے مزید مشکل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ بیک وقت گھر، خاندان اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور وائس چانسلر جامعہ کراچی میری ترجیح رہی ہے کہ خواتین اور مردوں کویکساں مواقع فراہم کئے جائیں اور خواتین کو فیصلہ سازی میں ان کا صحیح مقام دلائیں تاکہ وہ ہر سطح پر باوقار انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے اس پر زوردیا کہ مواقعوں کا تعین صنف یا جنس کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فرد کی صلاحیت، عزم اور اس کی لگن کو بنیاد بنا کر کیا جانا چاہیئے۔ڈاکٹر خالد نے کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر خواتین کے کردار کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ مختلف قوموں کا مطالعہ کریں تو ان کی ترقی اور کامیابی کی اصل وجہ برابری ہے۔
رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر بلقیس گل نے کہا کہ آج کا موضوع ہماری بااعتماد، بااختیار خواتین کے نام ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی اور آرٹس جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے طاقت، وضاحت اور خود آگاہی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سائنس، ٹیکنالوجی، آرٹس اور ریاضی کے شعبوں میں جب بھی کوئی نئی ایجاد، دریافت یا پیش رفت سامنے آتی ہے، تو اس کے پیچھے ایک حقیقی انسانی کہانی ہوتی ہے—استقامت، ہمت اور اپنے مقصد پر غیر متزلزل یقین کی کہانی۔ بہت سی خواتین کے لیے یہ سفر نہایت کٹھن ہوتا ہے، جو معاشرتی توقعات اور بعض اوقات پیشہ ورانہ مشکلات سے تشکیل پاتا ہے۔
ڈاکٹر بلقیس گل نے مزید کہا کہ ایک مضبوط اور کامیاب عورت نہ صرف اپنی زندگی،جس میں کام، خاندان اور ذاتی فلاح شامل ہیں کا توازن برقرار رکھتی ہے بلکہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر توقعات سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرتی ہے۔ وہ زندگی کے چیلنجز کا سامنا ہمت، اعتماد اور اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں، اپنے جذبات اور اپنے اہداف کی گہری سمجھ کے ساتھ کرتی ہے۔ڈاکٹر گل نے کہا کہ جب خواتین آگے بڑھتی ہیں تو سائنس ترقی کرتی ہے؛ جب خواتین بلند ہوتی ہیں تو معاشرے بلند ہوتے ہیں۔ اور جب خواتین توازن اور خود آگہی کے ساتھ قیادت کرتی ہیں تو وہ ترقی کے حقیقی معنی دوبارہ متعین کرتی ہیں۔
انہوں نے نوجوان خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ وہ سب کچھ حاصل کر سکتی ہیں جس کا آپ تصور بھی نہیں کرتیں۔ اپنی امنگوں میں توازن اور اپنی شخصیت میں خود آگہی کو جگہ دیں۔ اپنے سفر کو دیانت داری سے جوڑیں اور یقین رکھیں کہ اصل طاقت کمال میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور استقامت میں ہے۔”ڈاکٹر گل نے کہا کہ خواتین کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا مستقبل نہ صرف امید افزا ہے بلکہ انتہائی تبدیلی لانے والا بھی ہے۔
تقریب سے اوڈبلیوایس ڈی کی صدرپروفیسرڈاکٹر بیناایس صدیقی،پروفیسرڈاکٹر ہمابقائی،پروفیسرڈاکٹر اقبال آفریدی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔


