امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ کا کنٹرول کھو چکے ہیں، کرس مرفی

واشنگٹن(بولونیوز)امریکی سیاست میں ایران کے خلاف جاری جنگ پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ کا کنٹرول کھو چکے ہیں اور اس وقت شدید گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

دوسری جانب سابق امریکی وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے برطانوی جریدے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد ٹرمپ ایک نہایت مشکل صورتِ حال میں پھنس چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بحران ٹرمپ کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور وہ اب آگے چٹان اور پیچھے کھائی جیسی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

لیون پینیٹا کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد ٹرمپ دنیا کو کمزوری کا پیغام دے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی صلاحیت سے امریکی حکام پہلے ہی آگاہ تھے، تاہم موجودہ حالات میں یہی خدشہ ایک سنگین حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

انٹرویو میں لیون پینیٹا نے دعویٰ کیا کہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اسرائیل کے ایک اچانک حملے سے ہوا، جس کے بعد ایران میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہوئی۔ ان کے بقول اس تنازع کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا، جنہیں زیادہ سخت گیر رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔

لیون پینیٹا کے مطابق اس جنگ میں 13 امریکی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 1400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاس اب کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں اور جنگ بندی کے بغیر وہ کسی بھی کامیابی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

سابق امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ٹرمپ کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں، یا تو جنگ کو مزید وسعت دے کر آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے کھلوانے کی کوشش کریں، جو جانی و مالی لحاظ سے نہایت مہنگا آپشن ہے، یا پھر پیچھے ہٹ کر کامیابی کا اعلان کریں، تاہم دونوں صورتوں میں انہیں شدید سیاسی اور سفارتی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کے باعث اب امریکا کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے، اور اتحادیوں کے بغیر کسی بھی فوجی کارروائی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *