وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت این آئی سی وی ڈی کا 84واں گورننگ باڈی اجلاس منعقد

کراچی(بولونیوز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کا 84واں گورننگ باڈی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر نے ادارے کی کارکردگی، مالی صورتحال اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں این آئی سی وی ڈی کے مستقبل کے تحفظ اور عوامی خدمات کے تسلسل کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کی قانونی حیثیت بحال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مفت دل کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ادارے کے آپریشنل امور کے لیے 15.5 ارب روپے کی گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی کو مالی سال 2025-26 میں فوری طور پر 3.5 ارب روپے اضافی گرانٹ کی ضرورت ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ اب تک 10 ارب روپے کی منظوری دے چکے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق ادارے کو مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جو انتظامی اور سروس اخراجات میں اضافے کے باعث پیدا ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) اور چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کی فوری تقرری کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ تقرریاں اوپن مارکیٹ اور مسابقتی عمل کے تحت کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ابہام دور کرکے ادارے کو بلا رکاوٹ عوامی خدمت کے قابل بنایا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی نے اب تک 200 سے زائد ٹی اے وی آئی (TAVI) پروسیجرز مفت انجام دیے ہیں، جبکہ نجی اسپتالوں میں اس پروسیجر کی لاگت تقریباً 40 لاکھ روپے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ این آئی سی وی ڈی کراچی نے سال 2024 میں 9 ہزار 925 پرائمری اینجیو پلاسٹیز انجام دیں اور یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا پرائمری اینجیو پلاسٹی سینٹر ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی نے پہلی بار بلوچستان میں بچوں کے دل کے علاج کی سہولت فراہم کی، جہاں 100 سے زائد پیڈیاٹرک سرجریز اور 300 سے زائد انٹروینشنز مکمل کی گئیں۔ اس کے علاوہ اسٹروک انٹروینشن پروگرام کے تحت 450 سے زائد پروسیجرز انجام دیے گئے، جس سے سینکڑوں مریض مستقل معذوری سے محفوظ ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے 300 بستروں پر مشتمل نئے پیڈیاٹرک یونٹ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور لانڈھی میں قائم ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز کی پیش رفت پر بھی بریفنگ لی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق لانڈھی میں قائم ہونے والا ادارہ 1200 بستروں پر مشتمل ہوگا اور دنیا کا سب سے بڑا دل کا اسپتال بنے گا۔

مزید برآں وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے انضمام اور انتظامی اصلاحات کے لیے جامع بزنس پلان تیار کرنے اور کے پی ایم جی (KPMG) کی تقرری کو حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *