گل پلازہ سانحہ: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ کرپشن ایک بار پھر بے نقاب
کراچی(بولونیوز)گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں جاری مبینہ بدعنوانی اور غفلت کو ایک مرتبہ پھر سب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ کا منظور شدہ نقشہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ عمارت کی بیسمنٹ صرف اور صرف کار پارکنگ کے لیے مختص تھی۔
تاہم اطلاعات کے مطابق بلڈنگ کنٹرول کے بعض مبینہ کرپٹ افسران نے کروڑوں روپے کی رشوت کے عوض بیسمنٹ میں پارکنگ کی جگہ غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کروانے کی اجازت دی، جو منظور شدہ نقشے اور بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مجرمانہ غفلت اور ملی بھگت نہ صرف قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے بلکہ اس کے نتیجے میں شہریوں کی قیمتی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں اور اربوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ بھی پیدا ہوا۔
شہری حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ غیر قانونی تبدیلیوں کی منظوری کس نے دی، کن افسران نے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھیں اور آیا اس سنگین غفلت میں ملوث عناصر کے خلاف کبھی عملی کارروائی عمل میں لائی جائے گی یا نہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں موجود اس مبینہ منظم کرپشن نیٹ ورک کا سخت احتساب نہ کیا گیا تو مستقبل میں بھی اس نوعیت کے سانحات کراچی کے شہریوں کا مقدر بنے رہیں گے۔


