2 بیٹوں کے بعد کمسن بیٹی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی
کراچی(بولونیوز) ولیکا اسپتال میں ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت نے کئی خاندانوں پر قیامت ڈھا دی مزید دو معصوم بچیاں ایچ آئی وی کا شکار ہو گئیں۔
ولیکا اسپتال میں غافل ڈاکٹروں نے پاکستان کے مستقبل سے کھیلتے ہوئے درجنوں نونہالان وطن کو موذی مرض ایچ آئی وی کا شکار کر دیا، جس کے باعث کئی خاندانوں کی دنیا اجڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مزید دو معصوم بچیاں ایچ آئی وی کا شکار ہو گئی ہیں۔ ان میں ایک بچی وہ بھی شامل ہے، جس کے دو بھائی پہلے ہی اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
ضیا کالونی کے رہائشی اس خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ ان کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی موذی مرض ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے ہیں۔
غمزدہ والد نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ان کے 12 سالہ اور 3 سالہ بیٹوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی۔ ہماری بیٹی چیسٹ انفیکشن کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب اس کی طبیعت نہ سنبھلی تو ٹیسٹ کرایا اور جب اس کی رپورٹ آئی تو ہم پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا کیونکہ ہماری تیسری اولاد میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق ہو گئی۔
اس کے علاوہ میٹرول کی رہائشی تین سالہ بچی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔مذکورہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹی کا بھی ولیکا اسپتال میں علاج ہوا تھا، طبیعت بگڑنے پر جب اس کا ٹیسٹ کرایا تو ایچ آئی وی پازیٹو آیا۔
والدین نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کر کے انہیں نشانہ عبرت بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی اور بچہ اس موذی مرض کا شکار نہ ہو۔


