بجٹ میں ٹیکس نہ لگنے پر سولر پینلز کی قیمتیں زمین بوس، ذخیرہ کرنے والے تاجر مشکلات کا شکار

اسلام آباد(بولونیوز)وفاقی بجٹ 2026-27 میں سولر پینلز پر اضافی ٹیکس نہ لگانے کے فیصلے کے بعد پاکستان بھر کی مارکیٹوں میں سولر پلیٹوں کی قیمتیں تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئی ہیں، جس کے باعث اسٹاک جمع کرنے والے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بجٹ سے قبل سولر پینلز پر ٹیکس لگنے کی افواہوں کے باعث تاجروں نے بڑی تعداد میں سولر پلیٹس ذخیرہ کر لی تھیں، جس سے قیمتوں میں 4 ہزار سے 9 ہزار روپے فی پلیٹ تک اضافہ ہو گیا تھا۔ تاہم بجٹ میں ٹیکس نہ لگنے کے اعلان کے بعد یہ اضافہ واپس ہو رہا ہے اور قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف برانڈز اور واٹیج کے سولر پینلز کی قیمتوں میں اس وقت 4 ہزار سے 9 ہزار روپے فی پلیٹ تک کمی آ چکی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جن تاجروں نے قیمتیں بڑھنے کی توقع پر بڑی مقدار میں اسٹاک کیا تھا، وہ اب مالی نقصان میں جا رہے ہیں اور شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دوسری جانب عام صارفین کے لیے یہ صورتحال خوش آئند ثابت ہوئی ہے، کیونکہ سولر سسٹم کی تنصیب ایک بار پھر نسبتاً سستی ہو گئی ہے، جس سے متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *