پنجاب میں AI کلوننگ اور ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی، فنکاروں کے حقوق کو قانونی تحفظ
لاہور(بولونیوز)لاہور میں حکومتِ پنجاب نے مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال، وائس کلوننگ اور ڈیپ فیک کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے “پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026” کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فنکار کی آواز، چہرہ، تصویر یا ڈیجیٹل شناخت کو اس کی پیشگی، واضح اور تحریری اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ بل میں فنکار کی ڈیجیٹل شناخت کو باقاعدہ قانونی اور دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کا درجہ دینے کی تجویز شامل ہے۔
قانونی مسودے کے مطابق AI کے ذریعے تیار کی جانے والی ہر پرفارمنس کے لیے الگ معاہدہ اور معاوضہ لازم ہوگا، جبکہ AI سے بنائے گئے مواد پر واضح ڈسکلیمر دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بغیر اجازت وائس کلوننگ، جعلی توثیق یا سیاسی پیغامات نشر کرنے پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں تین سال تک قید اور کروڑوں روپے جرمانہ شامل ہے۔
بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ 18 سال سے کم عمر فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کے استعمال کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت لازمی ہوگی، جبکہ فوت شدہ فنکاروں کی آواز اور چہرے کو 25 سال تک قانونی تحفظ حاصل رہے گا۔
اسی طرح پنجاب میں ڈیجیٹل رائٹس رجسٹری کے قیام کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ کیا جائے گا۔ AI انڈسٹری، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے نئی قانونی حدود اور ضوابط متعارف کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں فنکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ قانون ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور AI کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ شکنی میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔


