اے وی ایل سی/سی آئی اے اہلکار پر سنگین الزامات، مبینہ رشوت اور کرپشن کا انکشاف
کراچی(بولونیوز)کراچی میں اے وی ایل سی کراچی اور سی آئی اے میں تعینات اے ایس آئی ممتاز پہنور پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر رشوت لے کر گاڑیاں چھوڑنے اور کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لیاری سٹی اے وی ایل سی دفتر میں لائی گئی لوہے اور سریے سے بھری دو مزدا گاڑیوں کو مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد راتوں رات رہا کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی ممتاز پہنور خود کو ایس ایس پی سی آئی اے/اے وی ایل سی کا “پارٹی انچارج” ظاہر کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کارروائیاں اعلیٰ افسران کے حکم پر کرتا ہے۔
متاثرہ تاجر جمیل، جو نیو کراچی کا رہائشی بتایا جاتا ہے، کی گاڑیاں پکڑ کر لیاری سٹی دفتر منتقل کی گئیں جہاں مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ گاڑیوں سے تقریباً 3 ٹن لوہا اور سریا بھی نکالا گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر کباڑیے کو فروخت کیا گیا۔
یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دفتر میں غیر رسمی طور پر بعض افراد کی موجودگی اور مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔
شہری حلقوں نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور الزامات ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔


