پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)شہباز شریف نے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اور بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔
وزیراعظم سے یورپی یونین کے اعلیٰ حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
یورپی وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر ایشیا پیسفک پیٹرس اسٹبس کر رہے تھے۔ وفد میں یورپین انویسٹمنٹ بینک کی نمائندہ تھوریا تریکی، ایڈیڈاز کے نائب صدر مینیول پاؤزر، ایندراتز کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر اور آئیکیا کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے شامل تھے۔ پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کیروبلس بھی وفد کا حصہ تھے۔
وزیراعظم نے وفد کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پلیٹ فارم تجارتی شراکت داری اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
شہباز شریف نے وفد کو یقین دلایا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے جیسے علاقائی چیلنجز کے باوجود حکومت پاکستان معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک رابطوں کا بھی ذکر کیا، جن میں علاقائی سلامتی اور پاکستان، یورپی یونین تعلقات کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یورپی وفد نے خطے میں امن کے لیے وزیراعظم کے قائدانہ کردار کو سراہا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کی میزبانی پر حکومت پاکستان کی تعریف کی۔ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تجربات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی، مواصلات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں بزنس ٹو بزنس تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان سمیت سینئر حکومتی حکام بھی شریک تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *