دہشت گردی کے نئے رجحانات پر پاکستانی مشن اور یو این او سی ٹی کا مشترکہ اجلاس

نیویارک(بولونیوز)اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے انسدادِ دہشت گردی (یو این او سی ٹی) کے تعاون سے دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے ہوئے رجحانات کے موضوع پر ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں مختلف پس منظر رکھنے والے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے پالیسی ماہرین، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں سے وابستہ انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر دہشت گردی کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز پر جامع گفتگو کی گئی۔

تقریب کی مشترکہ صدارت اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور یو این او سی ٹی کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے کی۔ افتتاحی کلمات دونوں صدور نے ادا کیے، جبکہ یو این او سی ٹی کے پالیسی، نالج مینجمنٹ اینڈ کوآرڈینیشن برانچ کے چیف مسٹر رافع شاہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے تیزی سے بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات، زینوفوبیا، نسل پرستی اور عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات، مذہب یا عقیدے کے نام پر انتہا پسندی، عالمی انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں موجود خلا پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قومی حکومتوں کی حدود سے ماورا خطرات سے نمٹنے میں درپیش مشکلات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز و ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جوابدہی کے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔

سفیر نے علاقائی تناظر میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے مثال قربانیوں اور کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور جامع حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *