سوئی گیس کمپنیوں کا یکم جولائی سے گیس مہنگی کرنے کے لیے اوگرا سے رجوع
اسلام آباد(بولونیوز)سوئی گیس کمپنیوں نے یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے باضابطہ رجوع کر لیا ہے۔ گیس کمپنیوں کی جانب سے اوسط گیس قیمت 5 ہزار 306 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سوئی گیس کمپنیوں نے اگلے اور پچھلے مالی سالوں کے خساروں کو بنیاد بناتے ہوئے مجموعی طور پر 1650 ارب روپے کے شارٹ فال کا دعویٰ کیا ہے، جس کی ریکوری کے لیے قیمتوں میں نمایاں اضافے کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔
درخواست کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے ریونیو کی مد میں 956 ارب روپے مانگے ہیں، جن میں آئندہ مالی سال کے لیے 411 ارب روپے جبکہ سابقہ شارٹ فال کی مد میں 545 ارب روپے شامل ہیں۔ سوئی سدرن کی مجموعی ریونیو ضروریات 1279 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی نے مزید 42 ارب روپے ایل این جی سروس کی لاگت کی مد میں بھی طلب کیے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات، درآمدی ایل این جی کی قیمت اور سابقہ خساروں کے باعث گیس کی اوسط قیمت میں 5306 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اوگرا ذرائع کے مطابق گیس کمپنیوں کی درخواست پر عوامی سماعتیں منعقد کی جائیں گی، جس کے بعد تفصیلی جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اضافہ منظور ہو گیا تو گھریلو اور صنعتی صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔


