Category: انٹرنیشنل نیوز

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 16 کشمیری شہید

    سری نگر(بولونیوز)مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فورسز کے ہاتھوں دو ہزار چھبیس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 16 کشمیری شہید ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں بھارتی فوج، راشٹریہ رائفلز اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے حصہ لیا، جبکہ اسپیشل آپریشنز گروپ اور دیگر خفیہ اداروں پر بھی ریاستی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعات مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز اور محاصروں کے دوران پیش آئے، جبکہ متعدد نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے خطے میں خوف اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کشمیری رہنماؤں اور متاثرہ خاندانوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ

    سرینگر(بولونیوز)مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کارکنوں کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز دبانے کے لیے سخت قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس عرصے کے دوران سینکڑوں کشمیری جاں بحق، جبکہ ہزاروں زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق وادی میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز اور تلاشی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں، جس سے شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق علاقے میں فوجی موجودگی میں اضافے کے باعث بنیادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جبکہ سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو بھی ہراساں کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

    کارکنوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

  • عمر عبداللہ نے یونین ٹیریٹری نظام کو غیر مؤثر قرار دے کر مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر دیا

    سرینگر(بولونیوز)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے موجودہ یونین ٹیریٹری نظام کو غیر مؤثر اور ناقص طرز حکمرانی قرار دیتے ہوئے مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت سے عوام نتائج کی توقع تو رکھتے ہیں، لیکن اسے اہم انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے جس کے باعث مؤثر حکمرانی ممکن نہیں رہی۔

    عمر عبداللہ کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے باوجود یونین ٹیریٹری نظام میں حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، جبکہ افسران کی تقرری، تبادلوں اور دیگر اہم انتظامی فیصلوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہی افسران کے ذریعے حکومتی منصوبوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے اختیارات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے بجٹ سازی کے دوران فنانس سیکریٹری کے تبادلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات انتظامی تسلسل کو متاثر کرتے ہیں اور مؤثر حکمرانی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دے دیا جائے تو انتظامی مسائل بڑی حد تک حل ہو سکتے ہیں اور منتخب حکومت عوامی توقعات بہتر انداز میں پوری کر سکتی ہے۔

  • پی آئی اے کی پرواز پر ملتان کے حجاج کو چھوڑے جانے کا واقعہ، جدہ ایئرپورٹ پر احتجاج

    جدہ(بولونیوز)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ایک پرواز سے متعلق افسوسناک صورتحال سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ طور پر ملتان کے حجاج کو چھوڑ کر طیارہ روانہ ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق جدہ ایئرپورٹ پر موجود حجاج کرام نے شدید احتجاج کیا، جن میں خواتین عازمین بھی شامل تھیں۔ متاثرہ حجاج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جدہ سے ملتان جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 846 کی کنفرم ٹکٹ موجود تھی اور وہ مقررہ وقت سے دو گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچ گئے تھے، تاہم بورڈنگ کے دوران انہیں طیارے میں سوار نہیں ہونے دیا گیا۔

    حجاج کرام نے الزام عائد کیا کہ پرواز ان کے بغیر ہی روانہ ہو گئی، جس کے باعث وہ جدہ ایئرپورٹ پر بے یار و مددگار کھڑے رہے اور شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔

    مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت، عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار

    نیویارک(بولونیوز)پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پائیدار امن صرف بات چیت اور سفارتی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

    پاکستانی مندوب کے مطابق لبنان میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

  • ایران نے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ روک دیا، آبنائے ہرمز بند کرنے اور دیگر محاذ فعال کرنے کا دعویٰ

    تہران(بولونیوز)ایران نے احتجاجاً امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایرانی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا کوئی امکان نہیں اور اسرائیل و اس کے حامیوں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق اب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ باب المندب سمیت دیگر تمام محاذ فعال کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ایران نے واضح کیا ہے کہ ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکا سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور انقلاب کے راستے میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہر مشکل کا مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “طاقت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھیں گے یا شہید ہو جائیں گے، دونوں صورتوں میں کامیابی ہماری ہی ہے۔”

    صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ان کی جان شہید رہبر کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں اور اگر ہم میدان میں ایماندار رہے تو اللہ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوگی۔

  • ایران، امریکا مذاکرات میں تعطل کی خبروں سے تیل مارکیٹ میں بھونچال

    تہران(بولونیوز)ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    مارکیٹ رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 7.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 94.45 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ برینٹ آئل کی قیمت میں 6.32 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 97.38 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی اور ایران امریکا مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے تیزی سے خریداری کی۔

    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور صارفین دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ’پاگل‘ قرار دے دیا

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’پاگل‘‘ اور ’’ناشکرا‘‘ قرار دے دیا۔

    صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فون پر نہایت تلخ گفتگو ہوئی، جس دوران امریکی صدر نے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے پر نیتن یاہو سے انتہائی سخت لہجے میں بات کی۔

    رپورٹ کے مطابق اس تلخی کا پس منظر یہ تھا کہ ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے تو وہ امریکا سے بات چیت روک دے گا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر واضح کیا کہ بیروت پر حملے نہیں ہونے چاہئیں اور متنبہ کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہو جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ انہوں نے کرپشن ٹرائل میں نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، “اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری کھال بچا رہا ہوں، اب ہر شخص تم سے اور ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔”رپورٹ میں بتایا گیا کہ گفتگو کے دوران ایک موقع پر صدر ٹرمپ شدید طیش میں آ کر چلّا اٹھے کہ “تم کیا احمقانہ کام کر رہے ہو؟”

    ایک امریکی اہلکار نے نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نزدیک نیتن یاہو لبنان میں جارحیت کو غیر معمولی حد تک بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کو تشویش ہے کہ لبنان میں بڑی تعداد میں شہری مارے جا رہے ہیں اور صرف ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتیں تباہ کی جا رہی ہیں۔

    اہلکار کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ماضی میں بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، مگر دوسری بار صدارت سنبھالنے کے بعد یہ فون کال نیتن یاہو کے لیے اب تک کی سب سے سخت اور بدترین گفتگو تھی۔رپورٹ کے مطابق جواب میں نیتن یاہو مسلسل “اوکے، اوکے” کہتے رہے اور یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ہر پہلو کا خیال رکھا جائے گا۔

  • پیرس میں یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد

    پیرس(بولونیوز)فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اس فیصلے سے اسرائیلی وزارتِ دفاع کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    فرانسیسی حکومت نے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی نمائش میں اسرائیل کی شرکت روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر عملدرآمد کے لیے اسرائیلی حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

    یہ اسلحہ نمائش پیرس میں اس ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والی ہے، جس کا نام یورو ساٹوری ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی نمائش قرار دیا جاتا ہے۔

    فرانسیسی حکومت کی جانب سے پابندی کی وجوہات پر باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس فیصلے کو موجودہ علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل اور فرانس کے تعلقات میں ممکنہ سفارتی تناؤ پر بھی تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔

  • جنوبی لبنان میں بیفورٹ قلعے پر قبضہ، حزب اللہ کے خلاف مہم میں اہم موڑ: نیتن یاہو

    تل ابیب(بولونیوز)اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں بیفورٹ قلعہ پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ایک “اہم موڑ” ثابت ہوگا۔

    ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم بیفورٹ ایک مختلف انداز میں واپس آئے ہیں۔ ہم متحد، پرعزم اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئے ہیں۔”

    نیتن یاہو کے مطابق فورٹ بیفورٹ پر قبضہ صرف ایک عسکری قدم نہیں بلکہ اس پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے جسے اسرائیل نے اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے خوف کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے، ہم نے پہل کی ہے اور اب شام، غزہ اور لبنان میں تمام محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔”

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے اور اپنے دشمنوں کے خلاف مضبوط حکمتِ عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔