Category: انٹرنیشنل نیوز

  • ایران و اسرائیل کشیدگی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکرات کی اپیل کا پیغام

    واشنگٹن(بولونیوز)واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نام ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی ہے۔

    عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے میزائل حملے کیے گئے ہیں، لہٰذا اب کارروائیوں کو روک کر مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہیے اور ایک معاہدہ طے کرنا چاہیے۔

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مذاکرات اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں ممکن ہے کہ اس ہفتے 8، 9 یا 10 تاریخ کے دوران کسی معاہدے کی طرف پیش رفت ہو سکے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر جوابی میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    اطلاعات کے مطابق ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب تقریباً 10 بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    دوسری جانب بین الاقوامی برادری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دے رہی ہے۔

  • اسرائیل اور ایران کشیدگی کے خدشات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    لندن(بولونیوز)لندن میں بین الاقوامی منڈیوں میں اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مبینہ کشیدگی اور حملوں سے متعلق رپورٹس کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حملوں کی خبروں کے بعد ایک گھنٹے کے اندر عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.63 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 96.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 3.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 93.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے، کیونکہ یہ خطہ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب خطے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • خیساری بانڈہ میں 10 کلو وزنی آئی ای ڈی ناکارہ، بڑا سانحہ ٹل گیا

    ہنگو(بولونیوز) ضلع ہنگو کے علاقے خیساری بانڈہ میں سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 10 کلو وزنی دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ٹال دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم شرپسند عناصر نے علاقے میں مبینہ طور پر دو بم نصب کرنے کی کوشش کی، تاہم قریبی رہائشیوں نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر فوری اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔

    فرار ہونے والے مشتبہ افراد اپنی دو موٹر سائیکلیں اور ایک کدال موقع پر چھوڑ گئے، جنہیں سیکیورٹی اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ بعد ازاں پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بم کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا۔

    اہلِ علاقہ کی بروقت نشاندہی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کے باعث ایک بڑا حادثہ رونما ہونے سے بچ گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • اسرائیلی فوج نے جنوب لبنان میں اسکول اور ایمبولینس کو نشانہ بنایا، 6 شہری ہلاک

    بیروت(بولونیوز)لبنان کےجنوبی علاقوں میں اسرائیلی دفاعی فوج کی تازہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایک اسکول اور ایک ایمبولینس کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 6 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں اور توپ خانے نے جنوب لبنان اور مغربی بیکا کے مختلف شہری علاقوں پر حملے کیے، جن میں زیبدین میں ایک ایمبولینس بھی تباہ ہوئی جو ایک خاندان کو خوراک پہنچا رہی تھی۔ اس حملے میں پانچ عام شہری ہلاک ہوئے۔ اسی دوران بارغز کے ایک اسکول پر بھی گولہ باری کی گئ جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک اور حملہ دیر الزہرانی میں موٹر سائیکل کو نشانہ بنا کر ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا۔

    لبنانی حکام کے مطابق یہ حملے موجودہ جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں جس سے عام شہریوں اور بنیادی خدمات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لبنان کے وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2 سے اب تک ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ کے باعث لاکھوں افراد اپنی لڑائی اور نقل مکانی کا شکار ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہے، تاہم حملوں میں عام شہریوں اور امدادی خدمات پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی اور ہلاکت خیز صورتحال کی ایک اور تازہ یاددہانی ہے، جس میں عام لوگوں کی جانیں خطرے میں آ رہی ہیں اور انسانی ہمدردی کی بنیادی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

  • داعش حملہ آورکوقابوکرکےیہودیوں کوبچانےوالے مسلمان احمد الاحمد پروالد پرتشدد،29 جون کو عدالت میں پیشی

    سڈنی(بولونیوز) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں دسمبر کے دوران یہودی اجتماع پر اسلا-مک سٹیٹ (داعش) کے حملے کے دوران حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش کر کے زخمی ہونے والے مسلمان شہری احمد الاحمد کے خلاف اب اپنے والد پر تشدد اور مبینہ طور پر گھر میں قید رکھنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق احمد الاحمد پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی لین دین کے تنازع پر اپنے والد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دیگر جرائم کا بھی ارتکاب کیا۔ اس حوالے سے سڈنی پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ احمد الاحمد کو 29 جون کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دسمبر میں سڈنی میں ہونے والے یہودی اجتماع پر خونریز حملے کے دوران احمد الاحمد نے حملہ آور باپ بیٹے ساجد اکرم اور نوید اکرم میں سے ایک کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی، جس دوران وہ خود بھی زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد انہیں انسانیت کا ہیرو قرار دیا گیا اور ان کے لیے کئی ملین ڈالر کی امدادی رقم بھی جمع کی گئی تھی۔

    تاہم اب وہ اسی پولیس کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جس نے ماضی میں ان کی بہادری کو سراہا تھا۔ دوسری جانب احمد الاحمد نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمات بے بنیاد ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی ان کی جمع شدہ رقم ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت انہیں جھوٹے الزامات میں پھنسایا جا رہا ہے۔

    احمد الاحمد کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف ثابت کریں گے، جبکہ حکام کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات قانون کے مطابق کی جائیں گی۔

  • مظفرآباد میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام سرگرمیوں پر پابندی

    مظفرآباد(بولونیوز) آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور عوامی اجتماعات معطل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات معمول پر آنے پر پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔

  • اتر پردیش: ڈاکٹر واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش، نئی بحث چھڑ گئی

    نئی دہلی(بولونیوز)اتر پردیش کے ضلع ماؤ میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ جھگڑے کے واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو ایک سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوششوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر ہریش چندر جیسوال نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک شخص نے ان پر حملہ کیا اور خود کو ایک سیاسی جماعت کا رکن بتایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ مقامی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے قریب پیش آیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی واقعے کی مکمل نوعیت کا تعین کیا جا سکے گا۔

    دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل واقعے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے غیر ضروری تنازع جنم لے سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار انداز میں مکمل کی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

  • آپریشن بلیو اسٹار کی برسی: سکھ شناخت کو درپیش چیلنجز پر تشویش

    امرتسر(بولونیوز)آپریشن بلیو اسٹار کی 42ویں برسی کے موقع پر سکھ برادری کی جانب سے مختلف تقریبات اور یادگاری پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں سکھ مذہبی شناخت، ثقافتی روایات اور تاریخی ورثے کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکال تخت کے قائم مقام جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں سکھ شناخت اور مذہبی علامات کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے سکھ برادری پر زور دیا کہ وہ باہمی اتحاد کو مزید مضبوط بنائے اور اپنی ثقافتی و مذہبی جڑوں سے مضبوط وابستگی قائم رکھے۔

    انہوں نے پنجاب میں توہینِ مذہب سے متعلق قانون سازی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سنجیدہ اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں، برطانیہ میں کرپان پر پابندی سے متعلق بعض تجاویز کو سکھ مذہبی شناخت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔

    اس موقع پر مختلف سکھ تنظیموں کے کارکنان نے اپنے مطالبات اور خیالات کے اظہار کے لیے نعرے بھی لگائے۔ مقررین نے سکھ تاریخ، ثقافت اور مذہبی شعائر کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنی شناخت اور ورثے کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔

  • بارہمولہ، خاتون کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا

    سری نگر(بولونیوز) بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خاتون کو متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق حسینہ بیگم نامی خاتون کو ضلع کے شیری علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں وادیٔ کشمیر سے باہر ضلع ڈوڈہ کی بھدرواہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق مذکورہ خاتون مختلف مقدمات میں مطلوب تھیں اور ان پر آزادی پسند سرگرمیوں کی حمایت اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو طویل مدت تک بغیر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

  • امریکا کا فیفا ورلڈکپ کے لیے ایران کے 15 رکنی وفد کو ویزے دینے سے انکار

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکا نے آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے حوالے سے ایران کے 15 رکنی وفد کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایرانی وفد ٹورنامنٹ سے متعلق انتظامی اور سرکاری امور کے لیے امریکا کا دورہ کرنا چاہتا تھا، تاہم ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

    اس فیصلے کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے تاحال اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہے، جس میں مختلف ممالک کی ٹیمیں اور وفود شریک ہوتے ہیں۔