آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، سندھ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

کراچی(بولونیوز)ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی صوبہ ہونے اور گندم کی بمپر فصل کے باوجود آٹے کا مہنگا ہونا حکومتی نااہلی اور ذخیرہ اندوزوں کی سرپرستی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور پرائس کنٹرول کا نظام عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔

انصاف لائرز فورم کراچی ڈویژن کے سینئر رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آٹا 170 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روٹی، نان اور دیگر آٹے سے تیار شدہ اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو گئی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہری پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیراعلیٰ سندھ آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس پر اجلاس کر رہے ہیں، مگر دوسری جانب عملی طور پر کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ شہری بدستور مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگایا تھا، مگر آج عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھن چکی ہے۔ ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث مہنگائی اور بدحالی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شہری سستی بنیادی اشیائے خورونوش کو ترس رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت کا خاتمہ کیا جائے، پرائس کنٹرول نظام کو مؤثر بنایا جائے اور شہریوں کو فوری طور پر سستا اور معیاری آٹا فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اس طوفان سے حقیقی ریلیف مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *