بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام، خودکش حملہ آور گرفتار

کراچی(بولونیوز)کراچی میں پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج/مولوی مخلص گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ خودکش حملہ آور سلمان عرف ابو ہریرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم ایک خفیہ سلیپر سیل کا اہم رکن تھا اور بدنام دہشت گرد زعفران عرف ابو ہریرہ کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے، جو اس سے قبل ایک کارروائی میں مارا جا چکا تھا اور جس کے سر کی قیمت 10 کروڑ روپے مقرر تھی۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کراچی کے سائٹ ایریا میں واقع لبرٹی ٹیکسٹائل ملز میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر حملے میں ملوث رہا ہے، جہاں فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

گرفتار ملزم کے قبضے سے خودکش جیکٹ، حساس مقامات کی تصاویر اور عملیاتی نقشے برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے افغانستان میں خودکش حملوں اور کمانڈو طرز کی تربیت حاصل کی تھی۔ اسے مولوی مخلص یار نے ایک اور کارندے ادریس عرف اسداللہ کے ساتھ کراچی بھیجا تھا۔

تحقیقات کے مطابق دہشت گرد گروہ کا منصوبہ یہ تھا کہ پہلے منتخب اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جائے اور بعد ازاں کراچی میں ایک بڑا خودکش حملہ کیا جائے، جس کے لیے مزید حملہ آور بھی تیار کیے جا رہے تھے، تاہم وہ ابھی شہر نہیں پہنچ سکے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان کے ایک ساتھی نے 2025 میں کوئٹہ میں ایف سی کی تنصیب پر ہونے والے خودکش حملے میں حصہ لیا تھا اور وہ مارا گیا، جبکہ دوسرا ساتھی 2025 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس ٹریننگ سینٹر پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہو چکا ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق اس گرفتاری کے نتیجے میں کراچی میں ممکنہ طور پر ایک نہایت تباہ کن دہشت گرد حملہ روک دیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس سے اہم انکشافات متوقع ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *