وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سماجی تحفظ اتھارٹی بورڈ اجلاس،فلاحی منصوبوں کی منظوری
کراچی(بولونیوز)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی بورڈ کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، سردار شاہ، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری سوشل پروٹیکشن، سی ای او سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت کے خاتمے اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے یہ اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے پروگرامز کو صوبے بھر میں مزید وسعت دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں 8 لاکھ 85 ہزار بچوں اور دیہی خواتین کے لیے نئی نقد امداد کی منظوری دی گئی جبکہ ابتدائی بچپن کی نشوونما (ECD) کے لیے 14 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
فیصلے کے مطابق پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو سہ ماہی 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، جبکہ بچوں کی غذائی ضروریات، تعلیمی تیاری اور صحت کی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔دیہی خواتین کے لیے “غیر پیداواری عرصے” میں ماہانہ مالی امداد فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس کا مقصد انہیں مالی دباؤ اور غذائی عدم تحفظ سے محفوظ بنانا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ “ممتا پروگرام” 22 اضلاع میں فعال ہے اور اس سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سماجی تحفظ پروگرامزپرمجموعی طور پر 56 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔مزید یہ کہ ماؤں کو بروقت ادائیگی کے لیے نیا ہائبرڈ پیمنٹ ماڈل منظور کیا گیا، جبکہ حمل اور کم عمر بچوں کے لیے مکمل اور جزوی مالی معاونت کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں کراچی اور حیدرآباد کے پسماندہ علاقوں تک پروگرام کی توسیع، سات نئے اضلاع کی شمولیت، اور ضلع و تعلقہ اسپتالوں میں “ممتا ڈیسک” کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
شفافیت کے لیے آڈٹ، انسانی حقوق، قانونی اور تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ نئے مالی سال 2026-27 کے لیے 2.29 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کمزور طبقات، خصوصاً خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے اور صحت، غذائیت اور مالی استحکام کو ایک ساتھ لے کر چل رہی ہے۔


