ہر نئے عالمی بحران کا بوجھ پاکستانی عوام پر، مہنگائی کا نیا طوفان
اسلام آباد(بولونیوز)پاکستان میں ہر آنے والا عالمی یا علاقائی بحران عوام کے لیے مہنگائی کی نئی لہر لے کر آتا ہے، جس نے ایک بار پھر غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھے، جس کے نتیجے میں آٹا، دالیں، گھی، سبزیاں اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسے حالات کے دوران حکومتیں سبسڈی، ٹیکس میں رعایت اور ریلیف پیکجز کے ذریعے عوام کو سہارا دیتی ہیں، مگر پاکستان میں اس کے برعکس مہنگائی کا تمام بوجھ براہِ راست شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومتی اخراجات، مراعات اور شاہانہ طرزِ زندگی میں کمی کے بجائے عوام کی قوتِ خرید کو مزید کم کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ہر عالمی بحران کو جواز بنا کر قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر حکومتی اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان معاشرتی اور معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔


