کراچی میں کمرشل و رہائشی منصوبوں کی غیر قانونی تعمیرات پر نیب کی تحقیقات تیز
کراچی(بولونیوز) شہر میں کمرشل اور رہائشی منصوبوں کی غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحقیقات مزید تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) آغا مقصود عباس سمیت دیگر افسران کے خلاف کارروائی آگے بڑھا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے کراچی میں 18 بڑے کمرشل رہائشی پراجیکٹس سمیت 200 سے زائد کمرشل و رہائشی تعمیرات کی جانچ جاری ہے۔ نیب نے ایس بی سی اے کو باقاعدہ پرفارما اور پلاٹوں کی فہرستیں ارسال کرتے ہوئے متعلقہ تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
نیب نے اپروول، چالان فیس، کمپلیشن سرٹیفکیٹس، تعمیراتی خلاف ورزیوں، انتظامی اقدامات اور قومی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات مانگی ہیں۔ اس حوالے سے ایس بی سی اے کے فوکل پرسن نے تمام متعلقہ ڈائریکٹرز کو نیب کے احکامات سے آگاہ کر دیا ہے۔
تحریری احکامات کے تحت ڈائریکٹرز سینٹرل، ساؤتھ، ایسٹ، کورنگی، ملیر، ویسٹ، کیماڑی، ڈائریکٹر ون ونڈو سیل اور ڈائریکٹر سنگل ونڈو فیسلیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ 30 مارچ شام 5 بجے تک فراہم کیا جائے۔
نیب نے منظور کالونی کے قریب واقع کمرشل منصوبوں ڈائمنڈ ریزیڈینسی اور گولڈن ڈیفنس ٹاور کی تفصیلات طلب کی ہیں، جبکہ ٹیپو سلطان روڈ پر روشن ٹاور اور شہید ملت روڈ پر اوشین ٹاور کا مکمل ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
اسی طرح ڈیفنس ویو میں ڈیفنس ویو اپارٹمنٹس، رائل ٹاور، ڈیفنس اسکائی لائن اور ڈیفنس ریزیڈینسی، طارق روڈ پر عبداللہ ہومز، ایمرلڈ رائل ریزیڈینسی، صائمہ پاری گلوریز اور دلکشاں ہائیٹس سے متعلق دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔
نیب نے ٹیپو سلطان روڈ اور پی ای سی ایچ ایس بلاک چھ میں مختلف پلاٹوں پر جاری تعمیرات کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔ یاد رہے کہ نیب نے گزشتہ ماہ بھی ایس بی سی اے کو خط ارسال کر کے سابق ڈی جی اور دیگر افسران کے خلاف جاری تحقیقات کے تناظر میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔


