جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس،منعم ظفرخان نےشہری مسائل اورایران پرجنگ کےاثرات پر بات چیت
کراچی(بولونیوز) امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے پریس کانفرنس میں ملک اور شہر کے سنگین مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت چار ہفتے سے جاری ہے، جس کی وجہ سے لبنان میں ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور ایران میں لوگ اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ سمیت امن قائم کرنے والے ادارے عملاً مفلوج ہیں۔
منعم ظفر خان نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستان میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کفایت شعاری کی باتیں کر رہی ہے، لیکن وزیر اعظم کراچی میں تین درجن گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گھوم کر عیاشی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے کے بعد بھی وزیر اعظم کراچی نہیں آئے اور صوبہ و وفاق کراچی کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔
انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے حادثات اور اسٹریٹ کرائم پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ یکم جنوری سے مارچ تک کراچی میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 86 افراد ڈمپرز کے حادثات کا شکار ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیوی ٹریفک کے لیے متبادل راستے دیے جائیں اور سینسر لگانے کے وعدے پورے کیے جائیں۔
کراچی میں کچرا اٹھانے کے مسائل پر منعم ظفر خان نے کہا کہ عید کے تین دن سندھ حکومت ورک فرام ہوم پر چلی گئی اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے خود تسلیم کیا کہ شہر سے کچرا نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے کراچی کو با اختیار شہری حکومت دینے کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے شروع کی جانے والی پڑھو پڑھاؤ مہم کا اعلان کیا، جس کے تحت والدین سے کتابیں جمع کی جائیں گی اور انہیں مالی طور پر کمزور طلبہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ مہم آج سے 20 اپریل تک 15 مقامات پر جاری رہے گی۔
منعم ظفر خان نے ایم کیو ایم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایم کیو ایم کا کراچی میں اب کوئی حیثیت نہیں رہی، اور وہ ہر حکومت کا حصہ بن کر شہر کے مفادات کا سودا کرتی رہی ہے۔


