پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ: ماہرین کا بھارت کے اقدام سے موازنہ

اسلام آباد(بولونیوز)حالیہ عالمی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان تقریباً 90 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کو عالمی عوامل سے جوڑ کر عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔

تاہم ماہرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف جواز اور بہانہ ہے تاکہ ملکی پالیسی میں ناکامی یا دیر سے اقدامات پر پردہ ڈالا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے خدشات سے سب آگاہ تھے، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر پیشگی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

دوسری جانب بھارت نے تاحال پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، حالانکہ وہاں بھی تیل کی تقریباً 90 فیصد درآمد آبنائے ہرمز کے راستے سے ہوتی ہے۔ بھارت میں موجودہ پیٹرول کی قیمتیں درج ذیل ہیں:

دہلی: 94 روپے 77 پیسے فی لیٹر

ممبئی: 103 روپے 49 پیسے فی لیٹر

چنئی: 100 روپے 80 پیسے فی لیٹر

کولکتہ: 105 روپے 45 پیسے فی لیٹر

بھارتی حکومت کے مطابق ملک میں کافی دنوں کا تیل ذخیرہ موجود ہے اور فوری طور پر قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سب سے پہلے ہوا، اور یہ عوام پر مہلک مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال کو بہانہ بنا کر عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا، جبکہ پڑوسی ملک بھارت نے اپنی عوام کے لیے قیمتوں میں اضافہ مؤخر رکھا۔

یہ صورتحال ملکی توانائی پالیسی میں دیر سے اقدامات اور منصوبہ بندی کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتی ہے، اور عوام پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *