ماہِ رمضان میں پانی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
کراچی(بولونیوز)ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ پورٹ قاسم کے قریب پھٹنے والی 84 انچ قطر کی مرکزی پانی کی لائن کی مرمت کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال نہ ہوسکی، جس کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واٹر حکام کے مطابق دھابیجی اور گلشنِ اقبال کے علاقے شانتی نگر کے قریب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی 84 انچ قطر کی لائن لیک ہونے کے باعث شہر کے بڑے حصے کو پانی کی سپلائی معطل رہی۔ اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لائن کی مرمت مکمل کرلی گئی، تاہم اس کے باوجود پانی کی فراہمی بحال نہ ہو سکی۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب مرمت کے فوراً بعد کے الیکٹرک کی جانب سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر ایک اور بریک ڈاؤن ہوگیا، جس کے نتیجے میں شہر کو 10 کروڑ 31 لاکھ گیلن پانی فراہم نہ کیا جا سکا۔
پانی کی قلت کے باعث لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل، گلشنِ اقبال، کیماڑی ٹاؤن کے سلطان آباد اور صدر ٹاؤن سمیت متعدد علاقوں کے شہری بوند بوند پانی کو ترس گئے، جبکہ پہلے روزے کے موقع پر بھی گھریلو ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں پانی کی عدم دستیابی نے مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب واٹر کارپوریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بجلی کی بحالی کے بعد پانی کی سپلائی مرحلہ وار معمول پر آجائے گی۔


