7 ماہ بعد اغوا شدہ 14 سالہ بچی یاسمین بازیاب، پولیس کی شاندار کارروائی

لاہور(بولونیوز)ایک حیران کن اور مشکل ترین کیس میں ایس پی سدرہ خان کی قیادت میں پولیس ٹیم نے نہ صرف 14 سالہ اغوا شدہ بچی یاسمین کو بازیاب کروایا بلکہ اس کیس کے مرکزی ملزم خواتین کو بھی گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق 7 ماہ قبل لاہور کے علاقے بند روڈ میں 14 سالہ یاسمین سپارہ پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی مگر واپس نہ آئی۔ والدین نے بچی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا اور کچھ ملزمان کو نامزد کیا، تاہم روایتی کارروائی سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

پولیس تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یاسمین کو اغوا کرنے والی خواتین مصباح اور تاجو لنگڑی نے اسے نشا آور چیز دے کر بے ہوش کیا اور رات کے وقت اسے مختلف شہروں میں منتقل کرتے ہوئے سکھر اور پھر کراچی اور بلوچستان کے گروہوں کے حوالے کیا گیا۔ بچی کو 7 ماہ کے دوران کئی بار فروخت کیا گیا اور انسانی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ایس پی سدرہ خان نے اس کیس پر خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ انسپکٹر ابدال نے اغوا کے علاقے کی جرائم پیشہ خواتین کی فہرست مرتب کی اور موبائل ریکارڈز کی مدد سے مرکزی ملزم خواتین کے رابطے کا سراغ لگایا۔ مسلسل ریڈز اور صوبوں کے درمیان آپریشن کے بعد پولیس نے یاسمین کو انتہائی خراب حالت میں بازیاب کروا لیا اور مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے چالان دائر کر دیا۔ ایس پی سدرہ خان کی ٹیم کی محنت اور مستقل مزاجی نے یہ ناممکن کیس ممکن بنایا۔

پولیس افسران نے عوام سے اپیل کی کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی تربیت اور صحیح و غلط کی پہچان پر توجہ دیں، کیونکہ 14 سالہ یاسمین کی کم علمی اور تربیت کی کمی کے باعث وہ 3 صوبوں میں انسانی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔

یہ کامیاب کارروائی نہ صرف اغوا شدہ بچی کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ انسانی سمگلنگ اور بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس کی عزم و محنت کا ثبوت بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *