سرکاری افسران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق عدالت کا حکمنامہ جاری
پشاور(بولونیوز)عدالت عالیہ نے سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کی ویڈیوز شیئر کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر صوابئی کی سوشل میدْیا پر یونیورسٹی کی ویڈیوز شیئر کرنے کے خلاف درخواست کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری افسران بغیر قانونی اختیار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال نہیں کر سکتے۔
عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ درخواست میں سرکاری افسران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے سے متعلق مسئلہ اٹھایا گیا۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو کے مطابق افسران کسی کی نجی زندگی سے متعلق ویڈیوز اپلوڈ نہیں کر سکتے کیونکہ کسی کی نجی زندگی سے متعلق ویڈیو اپ لوڈ کرنا عوامی مفاد میں نہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا گورنمنٹ سروس رول 34 اے کے مطابق کوئی افسر سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکتا۔ سرکاری امور کے لیے سوشل میڈیا استعمال ضروری ہو تو، ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری سے اجازت لینا ہوگی۔ تاہم سرکاری امور پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مِس کنڈکٹ رولز لاگو ہوں گے۔
حکم نامہ میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ فریقین سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال پر ایس اوپیز بنائیں اور حکومت اس کی رپورٹ بنا کر ایک ماہ میں عدالت میں جمع کرائے۔


