اسلام قبول کرنے والے نوجوان محمد ظفر عباس مبینہ طور پر فائرنگ سے جاں بحق

اسلام آباد(بولونیوز)عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والے اسلام آباد کے نوجوان محمد ظفر عباس مبینہ طور پر فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق نوجوان کو ان کے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق محمد ظفر عباس نے چند روز قبل سرکاری طور پر اپنا مذہب تبدیل کروایا تھا اور نادرا کے ریکارڈ میں بھی انہیں مسلمان قرار دے دیا گیا تھا۔ واقعے سے چند دن قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے اسلام قبول کرنے کا پس منظر، درپیش مشکلات اور ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا تھا۔

محمد ظفر عباس کا کہنا تھا کہ وہ ایک سخت گیر عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے، تاہم اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر انہوں نے 2021 میں خفیہ طور پر اسلام سیکھنا اور عبادات شروع کیں۔ 2022 میں جب اہلِ خانہ کو ان کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا تو انہیں شدید دباؤ، گھریلو مخالفت اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ اسلام آباد چھوڑ کر مردان منتقل ہو گئے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ نام اور مذہب کی تبدیلی کے لیے قانونی مراحل انتہائی مشکل تھے، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے اپنے بچوں سے جدائی اور خاندانی بائیکاٹ کا ذکر بھی کیا تھا۔

واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ واقعہ مذہبی رواداری، اقلیتوں کے حقوق اور مذہب کی آزادی سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *