خواتین اور شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر قانونی و آئینی تحفظ پر زور

کراچی(بولونیوز) ماہرین اور قانونی حلقوں نے کہا ہے کہ کسی کے کردار یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچانا حقِ حیات کی خلاف ورزی ہے اور آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس ناقابلِ تجاوز ہے، جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 25 کے تحت سب شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی قوانین بنائے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی خلاف ورزی کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، اور قانون سازی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ آن لائن تشدد یکساں نہیں ہوتا اور خواتین رہنماؤں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، اس لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ضروری ہیں۔ آئینی آرٹیکلز کے مطابق خواتین کے تحفظ اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غلط معلومات روکنے کے لیے میڈیا اور ڈیجیٹل لٹریسی کو مضبوط کرنا ہوگا، ادارہ جاتی رابطے میں حقائق کی تصدیق ضروری ہے، اور ہراسانی، نقلی شناخت، منظم دھمکیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

ڈیجیٹل مواد کے قوانین کے تحت ذاتی معلومات اور تصاویر کے محفوظ استعمال، اور AI سے پیدا شدہ مواد کی شناخت میں محتاط رویہ اختیار کرنا لازم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *