گل پلازہ کی تعمیراتی پلاننگ اور تجاوزات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
کراچی(بولونیوز)گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، جس پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی نگرانی تھی۔ 1998 میں اس عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی اور پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں جبکہ چھت کو پارکنگ میں تبدیل کیا گیا۔
SBCA کے مطابق 2003 میں اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا اور عمارت کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں اور 1021 دکانوں کی اجازت تھی۔
تاہم تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، یعنی منظور شدہ نقشے سے 179 دکانیں زائد بنائی گئی تھیں۔ مزید برآں، راہداریوں اور باہر نکلنے کی جگہوں پر بھی دکانیں قائم کی گئی تھیں، جس سے حفاظتی اور ایمرجنسی کے نکاس کے معاملات پر شدید خطرہ پیدا ہوا۔


