اب والدین ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر بچے کو بیرون ملک نہیں لے جا سکیں گے
اسلام آباد(بولونیوز)پاکستان میں فیملی لاز ایکٹ 1964 میں “ہیگ کنونشن 1980” کے مطابق ترمیم کر دی گئی ہے، جس کے تحت والدین میں سے کوئی بھی بچے کو دوسرے والد یا والدہ کی رضامندی کے بغیر خفیہ یا دھوکہ دہی سے بیرون ملک نہیں لے جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر شوہر یا بیوی بچے کو دوسرے والدین سے الگ کرتے ہوئے ملک سے باہر لے جاتے ہیں، تو اسے بین الاقوامی اغوا تصور کیا جائے گا اور حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ بچے کو اس کے ملک واپس لایا جائے۔یہ اقدام بچوں کے حقوق کے تحفظ اور والدین کے درمیان قانونی تحفظات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔


