ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کا اثر: بھارت روسی تیل سے کنارہ کشی پر غور؟
واشنگٹن/نئی دہلی(بولونیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں (ٹیرف) کا اثر عالمی منڈیوں میں واضح طور پر نظر آنے لگا ہے، اور اس کا اثر بھارت کے روس سے تیل کی خریداری پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم صدر ٹرمپ کے ہمراہ ‘ایئر فورس ون’ پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے سفیر نے انہیں درخواست کی ہے کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
سینیٹر گراہم نے مزید بتایا کہ بھارت کی یہ حکمت عملی امریکی طرف سے لگائے گئے 25 فیصد ٹیرف کے دباؤ کے باعث اپنائی گئی ہے۔ گراہم نے ویڈیو میں کہا،
“یہ چیزیں (ٹیرف) کام کرتی ہیں!” یعنی ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں نے بھارت کو اپنی توانائی کی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح امریکی ٹیرف اور پابندیاں عالمی منڈیوں اور بڑے ممالک کے فیصلوں پر اثر ڈالتی ہیں، اور بھارت جیسا بڑا ملک بھی اپنے توانائی کے حصول کے لیے روس پر انحصار کرتے ہوئے امریکی دباؤ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ ویڈیو “امریکہ فرسٹ” اور ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں کی کامیابی کی واضح مثال ہے، اور عالمی سیاسی و اقتصادی حلقوں میں اس پر تیزی سے تبصرہ ہو رہا ہے۔


